BLOG POSTS

ROAD SAFETY

READ OUR BLOG POSTS

ماحولیاتی آلودگی میں گاڑیوں کا کردار

دنیا کے مختلف ممالک میں صحت عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں دنیا کا ایک چوتھائی حصہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچا جا سکے۔

ٹریفک حادثات اور سالانہ ہلاکتیں

وزارت مواصلات کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ہر سال ٹریفک حادثات کی وجہ سے تقریبا 9 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جو تقریبا 1400 ارب روپے ہے اور یہ رقم حادثے کے بعد گاڑیوں کی مرمت، زخمیوں کے طبی علاج، گاڑیوں کی مروجہ قیمت اور حادثات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے پر خرچ کی جاتی ہے، 9 ارب ڈالر ایک بہت بڑی رقم ہے جو قومی دفاعی بجٹ سے کہیں زیادہ ہے اور یہ رقم ہم ٹریفک حادثات کی مد میں ضائع کر دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں فضائی آلودگی اورمیڑو بس کا نظام

اسلام آباد لاہور کی طرح فضائی آلودگی کا شکار ہوتا چلا جا رہاہے کیونکہ کبھی کسی انتظامیہ نے منصوبہ بندی نہیں کی ہے اور نہ ہی سوچا ہے کہ گاڑیوں یا دھوئیں کے دیگر ذرائع سے کاربن کے اخراج پر کنٹرول کیسے ممکن ہوگا، لاہور شہر ماحولیاتی تباہی کی جیتی جاگتی مثال ہے جس کی بنیادی وجہ گاڑیوں کا دھواں ہے۔ گاڑیوں کو کنٹرول کرنے اور سڑکوں کی توسیع کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

لائسنس اور ٹریفک حادثات

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کو ریاست ا ور لوگوں کی جانب سے کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس بات کا اندازہ اس عمل سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی عام شاہراؤں اور موٹروے پر چلنے والی گاڑیاں یا تو لائسنس کے بغیر چل رہی ہوتی ہیں یا انکی رجسٹریشن نہیں کروائی جاتی ھے۔

حادثات سے تحفظ کے چند موثر اقدام

پاکستان میں ٹریفک حادثات کی صورتحال خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے، نیشنل روڈ سیفٹی کے اندازے کے مطابق 2020 میں پاکستان میں سڑکوں پر ہونے والی اموات اور زخمی افراد 77 فیصد تک بڑھ جائیں گے جبکہ اگر حادثات کو روکنے کی کوئی حکمت عملی پیش نہ کی گئی تو پاکستان میں ان حادثات کی تعداد 2030 میں 200 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔